سورج گرہن اور فادر ڈے
کیسا عجب اتفاق ہے کہ آج سورج گرہن بھی ہے اور باپ کا عالمی دن بھی ہے۔
کافی دیر سے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ باپ کے بارے میں کچھ لکھوں مگر کوئی سرا ہاتھ میں نہیں آرہا تھا۔پھر اچانک سے ایک جملہ سماعت کی نظر ہوا جس میں باپ کو سورج سے تشبیح دی گئی تھی ۔جملہ کچھ یوں تھا "باپ کی موجودگی سورج کی مانند ہوتی ہے،سورج گرم تو ضرور ہوتا ہے مگر سورج نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتا ہے" کتنا خوب صورت جملہ ہے اور آج کے دن کی مناسبت سے اسکو سمجھنا کتنا آسان ہے۔سورج کو تو گرہن لگتا ہے ۔۔۔کیا کبھی باپ کو بھی گرہن لگا ہے؟؟؟؟؟
جی ہاں جب باپ بوڑھا ہو جاتا اور اسکی اولاد جوان ہو جاتی ہے۔اولاد کمانے جاتی ہے ۔۔۔جب وہ کمزور ہوجاتا ہے اولاد طاقتور ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔جب وہ کمانے کے قابل نہیں۔۔
ایک بیٹے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اپنے باپ کی شکایت کا قصہ سناتا ہوں۔۔
ﺍﯾﮏ صحابی ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ
"ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ نہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ _!!!
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧﺑﻼﺅ اپنے باﭖ ﮐﻮ..
ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ.. ﺗﻮ
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ گھر سے ﭼﻠﮯ..
ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺗﮭﯽ اور عرب چلتے پھرتے شعر کہا کرتے تھے.
ﺗﻮ جب وہ آپ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧﻭﺳﻠﻢ کی خدمت میں حاضری کے لیے آ رہے تھے تو ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﺷﻌﺎﺭ ان کے ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ آئے اور ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﻧﮑﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ.
ابھی ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﺂﺏ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﯿﮟ صحابی کے باپ ﭘﮩﻨﭽﮯ نہیں تھے کہ
ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎیا..
یارسول اللہ..! اللہ تعالٰی فرما رہے ہیں ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﯿﺲ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺌﯿﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺁ ﺭﮨﮯ تھے.
ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ. ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭﺳﻨﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ آپ کے دل میں تھے لیکن آپ کی زبان نے ادا نہیں کیے.
ﻭﮦ ﻣﺨﻠﺺ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ. ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺋﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ نے ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﮯ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺌﮯ.
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ ﮐﮧ کیا تھے وہ اشعار؟؟
تو ﺍﻥ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ_
( اردو ترجمہ)
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ..
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﻤﺒﺨﺘﯽ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ _
ﺗﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ.. ﮨﻢ ﺳﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ_
ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ.. ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ _
ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ،، ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ تو ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺩﻡ ﺩﺭﻭﺩ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ تو ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ _
حالانکہ ﻣﻮﺕ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ_
ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﻞ ﺟائے
ﺟﻮ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ _
ﺟﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ_
ﺗﯿﺮﯼ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ،، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺧﺘﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺌﮟ _
ﭘﮭﺮ
ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺰﺍﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ﮈﺍﻝ ﻟﺌﮯ،،
ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺎﺭ ﺁﮔﺌﯽ_
ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ_
ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ _
ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮬﻮﺋﯽ _
ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ_
ﭼﻞ ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ،، ﺗﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮﮔﺰﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ
ﻣﮕﺮ
ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺗﮯ ﮬﯽﺗﯿﺮﮮ ﺗﯿﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ _
ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ _
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ _
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﺎ
ﭘﮭﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ 30 ﺳﺎﻟﮧ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ ﺩﯾﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮ ﮬﻮﮞ _
ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ _
ﺗﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﺮ !!...
ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ_
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ_
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﺳﻠﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
دور ہو جا میری نظروں سے
ﺍﻭﺭ ﺳﻦ ﻟﻮ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ..
(مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان سے اقتباس)
ہم جس سماج میں رہتے ہیں اس میں دو طرح کے طبقات بستے ہیں پہلا طبہ امراءکا ہے اور دوسرا طبقہ غرباءکا ہے۔ ان دونوں طبقوں کے باپ اپنی اولاد کی تربیت ، تعلیم، صحت کا خیال اپنی حیثیت سے بڑھ کر کرتے ہیں لیکن ان باپوں کی آخری زندگی تقریباًایک جیسی ہی گزرتی ہے ،نتیجہ صفر ہی رہتا ہے دونوں باپ کی اولاد کی زبان پر ایک ہی سوال ہوتا ہے آپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟؟
یاپ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا کردار ہے جو اولاد کی پرورش میں اس قدر مگن رہتا ہے کہ کبھی اسے اپنا خیال نہیں آیا اور اس معاشرہ کے اہل علم و آدب لوگوں نے بھی کبھی باپ کی عظمت کو یو ں کھل کر بیان نہیں کیا جسکا وہ حق دار تھا ؎۔۔۔۔ہم ماں کو جنت کی ہوا تو سمجھتے ہیں مگر باپ کو جنت کا دروازہ سمجھنے سے نا جانے کیوں قاصر ہیں؟؟؟
کاش کے ہم اس معاشرے میں والد کو وہ مقام دے سکیں جس کا بطور مسلمان ہمیں حکم دیا گیا اور اغیار کی ان روایات کو ٹھکرا سکیں جو ہمیں ہماری اصل روایات سے دور کرتی جارہی ہیں۔ آئیے اس ورلڈ Father's Day پر اس بات کا عہد کر لیں کہ ہم نے معاشرے میں والد کو وہ مقام دلوانا ہے جس کو وہ deserve کرتے ہیں اور ان کو وہ عزت ومرتبہ بخشنا ہے جس کا حکم ہمیں اسلام نے دیا ہے۔
ہر اک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا تھا
تمام عمر وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا تھا
وہ لوٹتا تھا کہیں رات کو دیر سے کہ دن بھر
وجود اسکا پسینے میں ڈھل کے بہتا تھا
گلے پھر بھی تھے مجھے ایسے چاک داماں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے

Comments